لکھنؤ،13/مارچ(ایس او نیوز؍ایجنسی) لکھنؤ میں مظاہرین کے ہورڈنگ لگانے کا معاملہ اترپردیش حکومت کے لئے درد سر بنتا جارہاہے- الہ آباد ہائی کورٹ کے بعد اب سپریم کورٹ نے بھی اترپردیش حکومت کی سرزنش کی ہے-
سپریم کورٹ نے اترپردیش حکومت کی عرضداشت پرسماعت کے دوران سوال کیاہے کہ عام آدمی کی تصاویر لگانے کا منشا کیاہے؟- سپریم کورٹ نے کہا کہ ملک میں حکومت قانون کے مطابق چلنے کی پابند ہے- عدالت نے کہا کہ یوپی حکومت کی کارروائی قانوناً صحیح نہیں ہے-
جسٹس للت نے اس معاملے کو سپریم کورٹ کے پچھلے فیصلے کی روشنی میں آئندہ ہفتے میں 3 ججوں کی بنچ کے پاس بھیجنے پر غور کرنے کا اشارہ دیا-وہیں جسٹس انیرودھ بوس نے کہا کہ ہم نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے آپ کی سفارش کو قبول کرلیاہے اور ہم معاملہ کو حل کرنے کے لئے اسے تین ججوں والی بینچ کو بھیجیں گے-اس معاملے کو چیف جسٹس کے ذریعہ نامزد کردہ3 ججوں کی بینچ کو بھیجنا ہوگا- جس کے بعد عدالت نے اس معاملہ کو سپریم کورٹ کی بڑی بینچ کو بھیجنے کا فیصلہ سنایاہے- کورٹ نے کہا کہ اس سلسلہ میں چیف جسٹس آف انڈیا سے سفارش کی جائے گی کہ ایک3 رکنی بینچ مقرر کرکے آئندہ ہفتہ میں سماعت کروائیں -
خیال رہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ریاستی حکومت کی سرزنش کی تھی- حکومت نے شہریت قانون کے خلاف احتجاج کے دوران ہوئے تشدد میں املاک کو ہوئے نقصان کی بازیابی کے لئے مبینہ ملزمین کی تصویروں کی ہورنگ لگائی تھی-جس پر ان کا نام اور پتہ بھی لکھا ہے-
واضح رہے کہ ضلع انتظامیہ نے5مارچ کی رات کو 57 افراد کے نام، پتہ اور تصاویر والے ہورڈنگ لگادئے- توڑ پھوڑ والے علاقوں میں یہ کارروائی کی گئی تھی- ہورڈنگس میں ہے کہ حسن گنج، حضرت گنج، قیصرباغ اور ٹھاکر گنج کے علاقوں میں 57 افراد سے 88 لاکھ 62ہزار 537 روپئے کی وصولی کی جانی ہے- لکھنؤ کے ڈی ایم ابھیشیک پرکاش نے کہا تھا کہ اگر طے وقت پر ان افراد نے جرمانہ نہیں بھرا تو ان کی جائیداد قرق کر لی جائے گی-
جن افراد کے نام ہورڈنگ لگائے گئے ان میں آئی پی ایس ایس آر داراپوری، سماجی کارکن اور اداکار صدف جعفری اور آرٹسٹ دیپک کبیر شامل ہیں - کبیر نے کہا تھا کہ حکومت ڈر کا ماحول بنارہی ہے- ہورڈنگ میں شامل افراد کی ماب لنچنگ ہو سکتی ہے- دہلی تشدد کے بعد ماحول محفوظ نہیں رہا- سرکار ہر کسی کو خطرے میں ڈالنے کا کام کر رہی ہے-یادرہے کہ پیر کے دن لکھنؤ کی سڑکوں پر مظاہرین کے پوسٹرس لگانے پر الہ آباد ہائی کورٹ نے یوگی حکومت کو پھٹکار لگائی ہے اور جلدازجلد پوسٹر کو ہٹانے کی ہدایت بھی دی ہے-
ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے لکھنؤ کے ڈی ایم اور پولیس کمشنر کو بغیر کسی تاخیر کے پوسٹروں اور بینرز کو ہٹانے کا حکم دیاتھا- عدالت نے مظاہرین کے پوسٹر لگانے کی کارروائی کو غیر ضروری اور رازداری کے حق کی خلاف ورزی قرار دیاہے-